| میان_ دل کوئی بے ساختہ غم ہے ، محرم ہے۔ محمد علی سعد |
سلام یا حسین رضی اللہ عنہ
میان ِ دل کوئی بے ساختہ غم ہے ، محرم ہے
بلا کا کرب ہے پر سوز موسم ہے ، محرم ہے
خیالوں میں کسی صحرا میں مظلوموں کے خیمے ہیں
نگاہوں میں کسی کی پیاس کا نم ہے ، محرم ہے
شریعت میں اجازت ہے ہر اک تہوار کی اس میں
مگر ہم کو کسی کا غم مقدم ہے ، محرم ہے
کوئی مسکان بھولے سے جو ان ہونٹوں تلک آئی
مری رنجیدگی چیخی محرم ہے ، محرم ہے. !
شہادت کا نہیں افسوس تو بے حرمتی کا ہے
یہ ان کے مرتبے کا ہے جو ماتم ہے ، محرم ہے
نماز ِ لا الہ اب بھی نہیں محتاج پانی کی
ہمارا خاک ِ کربل سے تیمم ہے. ، محرم ہے
ملک محمد علی سعد
0 Comments